نئی دہلی،04؍ ستمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) دہلی وقف بورڈ کو ایک لمبے عرصہ کے بعد نیا چیئرمین مل گیا ہے۔ اوکھلا سے رکن اسمبلی امانت اللہ خان دوبارہ دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں۔
آج شیام ناتھ مارگ واقع دہلی دے ڈویژنل کمشنر منیشا سکسینہ کے دفتر میں منعقد وقف بورڈ چیئرمین کے انتخاب میں اتفاق رائے سے امانت اللہ خان کو چیئرمین منتخب کیا گیا۔
امانت اللہ خان کے ساتھ سبھی چھ ممبران نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا ہے۔ بتادیں کہ وقف بورڈ میں امانت اللہ خان کے علاوہ چودھری شریف، ایڈوکیٹ حمال اختر، رضیہ سلطانہ،نعیم فاطمہ کاظمی اور امجد ٹونک ممبر ہیں۔
واضح رہے کہ دہلی وقف بورڈ گزشتہ دو سالوں سے تحلیل پڑا ہوا تھا۔ گزشتہ بورڈ کے دو رکن چودھری شریف اور مفتی اعجاز ارشد قاسمی نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کو بورڈ میں ہورہی بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے اپنا استعفیٰ سونپ دیا تھا۔
اس وقت کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے ان الزامات کی بنیاد پر بورڈ کو تحلیل کرتے ہوئے بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان کے خلاف سی بی آئی انکوائری کا حکم دیا تھا اور سی بی آئی نے بورڈ کے دفتر میں چھاپہ ماری کرکے ساری فائلیں بھی کھنگالی تھیں۔ حالانکہ ابھی تک سی بی آئی نے اس معاملے میں کوئی رپورٹ حکومت کو نہیں سونپی ہے۔
دہلی وقف بورڈ کے تحلیل ہونے کے بعد سے حکومت دہلی پر بورڈ کی تشکیل نوکے لئے مسلسل دباؤ بنایا جارہا تھا۔ اسی لئے حکومت نے وقف بورڈ کو بنانے کا فیصلہ لیا ہے۔ امانت اللہ خان کے دوبارہ وقف بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے سے بورڈ میں کام کررہے ملازمین اور بورڈ کے بڑے کرایہ داروں اور قابضین میں کافی کھلبلی مچی ہوئی ہے۔
امانت اللہ نے بورڈمیں اپنی پچھلی مدت میں بورڈ کو خود مختار بنانے کے لئے پرانے کرایہ داروں کو نئے طریقے سے کرایہ داری کرنے کے لئے دباؤ بنایا تھا اور ان کی اس کوشش سے کئی بڑے دوکانداروں نے نئی کرایہ داری کرائی بھی تھی اور بورڈ کے خزانہ میں کافی بڑی رقم بھی جمع ہوئی تھی۔ لیکن بورڈ کے تحلیل ہونے کے بعد یہ سب کام رک گیا تھا۔ اب دوبارہ امانت اللہ خان کے چیئرمین منتخب ہونے کے بعد سب سے زیادہ بڑے کرایہ داروں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ بورڈ کے ملازمین میں بھی کھلبلی مچی ہوئی ہے جن کی بورڈ کی اراضی پر قابض ہونے والوں کے ساتھ سانٹھ گانٹھ بتائی جارہی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ امانت اللہ خان نے بورڈ سے باہر ہونے کے بعد ایسے تمام کرایہ داروں، ملازمین اور بورڈ کی جائدادوں پر قابض لوگوں کی فہرست تیار کی ہے جن کے خلاف بہت جلد کارروائی شروع کئے جانے کا امکان ہے۔بتادیں کہ چاندنی چوک، جامع مسجد علاقوں میں واقع وقف اراضی کی کرایہ داری کو نئی کرایہ داری میں تبدیل کرانا بورڈ کے نومنتخب چیئرمین امانت اللہ خان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔